کراچی: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری تیسرے اقتصادی جائزے کے مذاکرات میں بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کا ایک اور بڑا مطالبہ مانتے ہوئے متحدہ عرب امارات سے 2 ارب ڈالر کے قرض کی میعاد میں ایک سال کی توسیع (رول اوور) کی یقین دہانی حاصل کر لی ہے، جس کے بعد مذاکرات کی کامیابی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
آئی ایم ایف کا وفد آج دوسرے روز بھی کراچی میں اسٹیٹ بینک کے ہیڈ کوارٹر میں موجود رہا، جہاں تکنیکی بنیادوں پر معیشت کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ سٹیٹ بینک حکام نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ بیرونی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دوست ممالک سے رابطے مکمل ہیں۔ وفد کے ساتھ تمام معاشی اعداد و شمار کی فائلیں شیئر کر دی گئی ہیں۔
آئی ایم ایف مشن کا اصرار تھا کہ جب تک دوست ممالک سے ملنے والے قرضوں کی واپسی کی میعاد نہیں بڑھتی، تب تک معاشی استحکام کا ہدف پورا نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کی جانب سے 2 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس کی رول اوور یقین دہانی کو آئی ایم ایف نے مثبت قرار دیا ہے۔
اب توجہ بجٹ اہداف اور مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے مانیٹری پالیسی کے ڈیٹا پر مرکوز ہے۔




