لندن : سوشل میڈیا پر الزامات کا شور مچانے والے یوٹیوبر عادل راجہ کو بالآخر برطانیہ کی عدالت میں منہ کی کھانی پڑی۔ عدالت نے ان کے الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے۔
برطانوی عدالت کے جج رچرڈ سپیئرمین نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ عادل راجہ کے الزامات کسی بھی شواہد پر مبنی نہیں تھے۔ عدالت نے نہ صرف عادل راجہ کو 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ انہیں تمام عدالتی اخراجات بھی خود برداشت کرنے ہوں گے۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بغیر ثبوت کے الزامات لگانا ہتکِ عزت کے زمرے میں آتا ہے اور اس کا قانونی احتساب ہو گا۔
عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ راشد نصیر کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش کی گئی، جس کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔




