لندن / تہران: برطانوی میڈیا نے سابق ایرانی اسپیکر اور منجھے ہوئے سیاستدان علی لاریجانی کی شہادت پر ایک مفصل رپورٹ جاری کی ہے، جس میں اس سانحے کو ایران کے لیے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے بھی بڑا نقصان قرار دیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق، علی لاریجانی کی شخصیت اور ان کا عالمی اثر و رسوخ ایران کے سیاسی ڈھانچے میں ایک ایسی حیثیت رکھتا تھا جس کا کوئی متبادل موجود نہیں۔
برطانوی اخبار لکھتا ہے کہ علی لاریجانی محض ایک ملکی سیاستدان نہیں تھے بلکہ ان کے روس اور چین کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ذاتی اور گہرے مراسم تھے، جو تہران کے لیے عالمی سفارت کاری میں کلیدی اہمیت رکھتے تھے۔
رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے انہیں محض اتفاقاً نشانہ نہیں بنایا بلکہ وہ ایران کی اسٹریٹجک طاقت کو مفلوج کرنا چاہتا تھا، کیونکہ لاریجانی عالمی سیاست کے ‘مردِ میدان’ سمجھے جاتے تھے۔اخبار نے علی لاریجانی کی شہادت کا موازنہ ایران کے سابق عظیم جنرل سے کیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد یہ ایران کے لیے اب تک کا سب سے بڑا صدمہ ہے۔
جس طرح سلیمانی عسکری محاذ کے شاہسوار تھے، اسی طرح لاریجانی سیاسی اور سفارتی محاذ پر ایران کا سب سے مضبوط مہرہ تھے۔
برطانوی اخبار کے مطابق، علی لاریجانی کی موت سے ایران نے وہ سیاسی وژن کھو دیا ہے جو بیجنگ اور ماسکو کے ایوانوں میں براہِ راست رسائی رکھتا تھا، جس کے اثرات تہران کی خارجہ پالیسی پر طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔




