ریاض :سعودی عرب کی شہ رگ اور عالمی توانائی کے مرکز ’راس تنورہ‘ ریفائنری پر آج صبح ایک بڑا بزدلانہ حملہ کیا گیا، جسے سعودی وزارتِ دفاع نے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں سفارتی تعلقات کشیدہ اور جنگ کے بادل گہرے ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، آج دوپہر دو بجے کے قریب راس تنورہ ریفائنری کی جانب بڑھنے والے دو مسلح ڈرونز کو سعودی پیٹریاٹ میزائل سسٹم نے فضا میں ہی تباہ کر دیا ۔ خوفناک دھماکے: مقامی شہریوں نے ریفائنری کے اوپر فضا میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنیں، جس کے بعد تباہ شدہ ڈرونز کا ملبہ کمپنی کی حدود میں جا گرا۔
ملبہ گرنے سے تنصیبات کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے سیاہ دھوئیں نے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سعودی فائر فائٹرز نے انتھک محنت کے بعد آگ پر قابو پایا۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آرامکو پر اس حملے نے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں فوری اضافے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے نے خبردار کیا ہے کہ "اگر آرامکو کی سپلائی میں ذرہ برابر بھی تعطل آیا، تو عالمی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع نے باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ صرف ایک ملک پر نہیں بلکہ پوری دنیا کی توانائی کی سلامتی (Energy Security) پر حملہ ہے۔ ابتدائی شواہد اور ڈرونز کے ڈیزائن سے ان کا رخ ایران کی جانب اشارہ کر رہا ہے، تاہم حتمی رپورٹ ملبے کے فارنزک معائنے کے بعد جاری کی جائے گی۔




