واشنگٹن / تہران :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو حیرت زدہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فیصلہ کن فوجی آپریشن "ایپک فیوری” نے تہران کی بساط الٹ دی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، امریکی فضائیہ اور سپیشل فورسز نے ایک ہی ہلے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت ایران کی 48 طاقتور ترین شخصیات کا صفایا کر دیا ہے۔صدر ٹرمپ نے فاتحانہ لہجے میں فاکس نیوز کو بتایا "ہم نے وہ کر دکھایا جو دہائیوں سے کوئی نہ کر سکا، 48 اعلیٰ عہدیدار اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایران کی فوجی اور سیاسی کمر ٹوٹ چکی ہے اور ان کی نئی عبوری قیادت اب گھٹنوں کے بل چل کر واشنگٹن سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہی ہے۔
امریکی صدر نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اب ان کے پاس صرف دو راستے بچے ہیں ہتھیار ڈالیں: جو اہلکار مزاحمت ترک کریں گے انہیں معافی دی جائے گی۔ صدر نے انکشاف کیا کہ ایران کے میزائل مراکز، بحری ہیڈ کوارٹرز اور ایٹمی تنصیبات اب ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔
تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان حملوں کو "عالمی دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے پوری قوم کے لیے 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ملک کی باگ ڈور ایک ہنگامی "عبوری قیادت کونسل” نے سنبھال لی ہے، تاہم صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ کونسل بھی امریکی شرائط ماننے پر تیار ہے۔۔
0 12 1 minute read




