نخجوان/باکو:آذربائیجان اور ایران کے درمیان سرحدی تناؤ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایران کی سرزمین سے داغے گئے متعدد ڈرونز آذربائیجان کی حدود میں داخل ہو کر سویلین مقامات پر جا گرے۔ ان حملوں میں نخجوان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے نہ صرف عمارت کو نقصان پہنچا بلکہ انسانی جانیں بھی متاثر ہوئیں۔
آذربائیجان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایک ڈرون براہِ راست نخجوان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی ٹرمینل بلڈنگ سے ٹکرا گیا، جس سے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔ دوسرا ڈرون شکارآباد گاؤں میں ایک اسکول کے قریب گرا۔ان واقعات کے نتیجے میں دو شہری زخمی ہوئے ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
واقعے کے فوراً بعد آذربائیجان نے سخت سفارتی ردعمل دیتے ہوئے ایرانی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر لیا۔ وزارتِ خارجہ نے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ایران فوری طور پر اس صورتحال کی وضاحت کرے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے اقدامات کرے۔ آذربائیجان اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے مناسب ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔




