نئی دہلی : بھارت کی مودی حکومت کی جانب سے روس سے تیل کی خریداری کے لیے امریکی محکمہ خزانہ سے 30 روزہ "عارضی اجازت” لینے پر ملک کے اندر ایک شدید سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسے بھارت کی آزاد خارجہ پالیسی کی موت اور مودی سرکار کی سفارتی ناکامی قرار دے دیا ہے۔
کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے مودی حکومت کے اس اقدام کو بھارتی غیرت کے خلاف قرار دیا۔ راہول گاندھی نے سوا ل کیا کیا اب امریکہ یہ طے کرے گا کہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کہاں سے پوری کرے؟ کیا ہم ایک آزاد ملک نہیں رہے؟۔ پریانک کھڑگے کی تنقید: انہوں نے ‘ایکس’ پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی سیکرٹری خزانہ بھارت کو حکم دینے والے کون ہوتے ہیں؟ بی جے پی نے بھارتی خارجہ پالیسی کو دنیا بھر میں مذاق بنا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث بھارت کو اپنے بنیادی معاشی فیصلوں پر مسلسل سمجھوتہ کرنا پڑ رہا ہے۔ خلیجی جنگ کے پیشِ نظر امریکہ کی جانب سے دی گئی 30 روزہ رعایت اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی توانائی کی پالیسی اب نئی دہلی کے بجائے واشنگٹن سے کنٹرول ہو رہی ہے۔




