لندن : برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر برطانیہ کا سرکاری موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کسی بھی صورت ایران کے خلاف جنگ کا براہِ راست فریق نہیں بنے گا۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے برطانیہ اپنا بھرپور سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا۔
کیئر اسٹارمر نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے فوجی تناؤ پر بات کرتے ہوئے کہا برطانیہ کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا ہے، کسی نئے محاذ میں شامل ہونا نہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور وہاں پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش ہے، لیکن اس کا حل جنگ کے بجائے عالمی تعاون اور سفارت کاری میں مضمر ہے۔
حکومتی رپورٹ کے مطابق برطانیہ نے خطے سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے اب تک کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن مکمل کیا ہے۔ سرکاری اور نجی چارٹر پروازوں کے ذریعے اب تک 92 ہزار سے زائد برطانوی باشندوں کو وطن واپس لایا جا چکا ہے۔ لبنان میں موجود برطانوی شہریوں کی فوری مدد کے لیے برطانوی ہائی کمیشن اور ریسکیو ٹیمیں مسلسل رابطے میں ہیں۔
کیئر سٹارمر نے واضح کیا کہ برطانیہ کی اولین ترجیح اپنے شہریوں کی زندگیوں کا تحفظ اور خطے میں استحکام لانا ہے۔ برطانیہ بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے اور انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔




