واشنگٹن : مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹانے کے لیے امریکا نے ایران کو ایک 15 نکاتی مشروط منصوبہ ارسال کر دیا ہے۔ امریکی اخبار کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی عسکری اثر و رسوخ کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے، جس کے بدلے میں جنگ کے خاتمے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ واشنگٹن نے تہران پر واضح کیا ہے کہ وہ اب محض نگرانی پر اکتفا نہیں کرے گا۔ ایران کو مندرجہ ذیل اقدامات کرنا ہوں گے۔ نطنز، اصفہان اور فردو کے حساس جوہری پلانٹس کو مکمل طور پر ختم (Dismantle) کرنا۔ ایرانی سرزمین پر کسی بھی سطح کی یورینیم افزودگی کو مستقل طور پر روکنا۔علاقائی اثاثوں اور بحری راستوں پر کنٹرول،امریکی پلان میں ایران کی خارجہ پالیسی کے اہم ستونوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایران کو خطے میں موجود اپنے تمام اتحادی گروہوں (Proxies) کی فنڈنگ اور معاونت فوری طور پر ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عالمی تجارت کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہ، آبنائے ہرمز میں ایک "آزاد میری ٹائم زون” قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ جہاز رانی پر ایرانی کنٹرول ختم کیا جا سکے۔
یہ 15 نکات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ ان شرائط کا نوعیت ایسی ہے کہ ایران کے لیے انہیں تسلیم کرنا اپنی دفاعی پالیسی سے مکمل دستبرداری کے مترادف ہوگا۔ کیا تہران ان سخت شرائط کے سامنے جھکے گا یا خطہ کسی بڑے تصادم کی طرف بڑھے گا؟ یہ سوال اب عالمی سیاست کا مرکز بن گیا ہے۔




