بین الاقوامی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان امن معاہدے پر دستخط

کوالالمپور :  امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ایک اہم امن معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ یہ معاہدہ ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران طے پایا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات کو ختم کرنا اور علاقے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ دنیا بھر میں امن کے خواہاں ہیں اور جنگوں کو روکنے میں اپنی کامیابیوں پر فخر کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تجارت کے ذریعے 8 جنگوں کو روکا ہے اور اب تک دنیا کے مختلف حصوں میں جنگوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ ملائیشیا تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان امن معاہدے کی نگرانی کرے گا، جو لاکھوں جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہو گا۔

امریکی صدر نے اس موقع پر تھائی لینڈ کی ملکہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار بھی کیا اور پاکستان کے وزیراعظم کو شاندار شخصیات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے پاک افغان جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جا رہا ہے۔

ملائیشیا کے صدر انور ابراہیم نے امریکی صدر کی قیادت کو سراہا اور کہا کہ وہ عالمی سطح پر قیام امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے غزہ میں امن معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ کی کامیابی کو بھی خراج تحسین پیش کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ عالمی امن کی کوششوں میں امریکہ کا کردار اہم ہے۔

یہ امن معاہدہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ایک صدی سے جاری سرحدی تنازعہ کے تناظر میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ حالیہ کشیدگی مئی میں سرحد پر جھڑپوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں کمبوڈین فوجی کی ہلاکت کے بعد دونوں ممالک نے سرحدی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ تاہم، ٹرمپ کی مداخلت اور امریکی دباؤ کے بعد دونوں ممالک نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جس سے علاقے میں امن کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔

ٹرمپ کا ایشیائی دورہ جاری ہے اور وہ جنوبی کوریا اور جاپان بھی جائیں گے، جہاں وہ ایشیا پیسیفک اکانومک فورم میں شرکت کریں گے۔ ان کا یہ دورہ عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنے کی ایک کوشش ہے، جس کا مقصد نہ صرف تجارتی تعلقات کو بہتر بنانا ہے بلکہ عالمی امن کے قیام میں بھی امریکی کردار کو مزید فعال کرنا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button