پیرس: فرانس کے دارالحکومت میں جی سیون وزرائے خارجہ کے اجلاس نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر اپنا وزن ڈال دیا ہے۔ اجلاس میں غیر روایتی طور پر سعودی عرب، بھارت، برازیل، جنوبی کوریا اور یوکرین کی شرکت نے ایران کے خلاف ایک وسیع تر عالمی محاذ کی تصویر کشی کی ہے۔
جی سیون نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگی کارروائیاں فوری طور پر روکے اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا بند کرے۔
عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین آبی گزرگاہ "آبنائے ہرمز” کو فوری طور پر بحری ٹریفک کے لیے بحال کرنے کا "حکم” دیا گیا ہے۔
جنگ کے نتیجے میں ہسپتالوں، سکولوں اور سویلین انفراسٹرکچر کی بڑے پیمانے پر تباہی کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
اعلامیہ میں زور دیا گیا ہے کہ بین الاقوامی سمندری حدود میں جہاز رانی کو کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا "ٹول” کے بغیر یقینی بنایا جائے۔
جی سیون نے متنبہ کیا ہے کہ توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن رہی ہے۔




