لندن: برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانوں میں "ویمن فار افغانستان فاؤنڈیشن” کے بینر تلے ہونے والے حالیہ اجلاس نے افغان طالبان کی ڈھائی سالہ حکومت کے خلاف ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اجلاس میں جاری کیے گئے اعلامیہ میں طالبان رجیم کو افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
اجلاس کے دوران شرکاء نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور درج ذیل نتائج اخذ کیے ۔ سیاسی و سماجی ڈھانچے کی پامالی: اعلامیہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان نے مذہب کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے، جس کے نتیجے میں افغانستان کا روایتی سیاسی اور سماجی ڈھانچہ بری طرح بکھر کر رہ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، افغان خواتین کی تعلیم اور کام کرنے کے حق پر عائد پابندیوں نے ملک کو ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا ہے جس کا حل فی الحال نظر نہیں آ رہا۔ اجلاس میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی کہ بنیادی انسانی حقوق کو دبانے کے لیے طاقت کا سہارا لیا جا رہا ہے، جو کہ عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
فاؤنڈیشن نے برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک طالبان خواتین کے حقوق بحال نہیں کرتے، ان کی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہ کیا جائے۔افغانستان کے لیے کسی بھی قسم کی غیر ہنگامی امداد کو انسانی حقوق کی صورتحال سے مشروط کیا جائے۔
ایک ایسا عالمی فریم ورک تیار کیا جائے جو افغان خواتین کو دوبارہ مرکزی دھارے میں شامل کرنے میں مدد دے سکے۔




