بیجنگ/اسلام آباد: پاکستان اور چین نے مشرقِ وسطیٰ کو بڑی جنگ سے بچانے کے لیے مشترکہ محاذ سنبھال لیا۔ دونوں ممالک نے خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے ایک 5 نکاتی تزویراتی اقدام (Strategic Initiative) کا اعلان کیا ہے جس میں فوری جنگ بندی اور سفارت کاری کو واحد حل قرار دیا گیا ہے۔
بیجنگ میں پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چینی قیادت کے درمیان ہونے والی اہم مشاورت کے بعد جاری اعلامیہ میں چین نے پاکستان کی امن کوششوں کی بھرپور تائید کر دی۔دونوں ممالک نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کا پھیلاؤ عالمی امن کے لیے خطرہ ہے، لہٰذا شہریوں اور غیر عسکری اہداف پر حملے فوری بند کیے جائیں۔
اعلامیہ میں آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی "شہ رگ” قرار دیتے ہوئے وہاں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دشمنی کا فوری خاتمہ اور متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان کی بلا تعطل ترسیل۔ ایران اور تمام خلیجی ریاستوں کی خودمختاری اور سرحدوں کا مکمل تحفظ۔ بجلی گھروں، ڈی سیلینیشن پلانٹس اور پرامن جوہری تنصیبات کو جنگ سے محفوظ رکھنا۔ آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں اور عملے کی باحفاظت واپسی اور سمندری راستوں کی کلیئرنس۔ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازعات کا پرامن حل۔
پاکستان اور چین کے اس مشترکہ بیان نے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا ہے کہ خطے میں طاقت کا استعمال کسی صورت قبول نہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق، دونوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ توانائی کی رسد اور عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے سمندری راستوں کا پرامن ہونا ناگزیر ہے۔




