نیویارک / لندن :عالمی سطح پر جاری جنگی تناؤ میں اچانک کمی کی امید نے خام تیل کی قیمتوں کو بڑا جھٹکا دے دیا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے "جنگ جلد ختم” کرنے اور مذاکرات کے امکانات ظاہر کرنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکدم نیچے آ گئی ہیں۔آج عالمی منڈی میں خام تیل کی دونوں بڑی اقسام (برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی) طویل عرصے بعد 100 ڈالر کی نفسیاتی حد سے نیچے ٹریڈ ہو رہی ہیں۔
خام تیل کی قیمت میں 5 فیصد کی بڑی کمی دیکھی گئی، جس کے بعد یہ 98.84 ڈالر فی بیرل پر آگیا ہے۔ گزشتہ روز برینٹ 105 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا۔امریکی خام تیل کی قیمت 4.5 فیصد کمی کے بعد 96.91 ڈالر فی بیرل پر آگئی ہے۔ گزشتہ روز ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 103 ڈالر تھی۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اس "بڑے بریک تھرو” کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔ امریکی صدر کا بیان: صدر کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی نوید نے مارکیٹ سے "وار پریمیم” (جنگی خوف کی وجہ سے بڑھتی قیمت) کو ختم کر دیا ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست مذاکرات کے امکانات نے سپلائی چین سے متعلق عالمی خدشات دور کر دیے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال ختم ہونے پر سرمایہ کاروں نے تیل کے بڑے سودوں سے اپنا منافع نکالنا شروع کر دیا ہے جس سے قیمتیں گر گئیں۔




