اسلام آباد: پاکستان نے خلائی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ایک عظیم الشان کامیابی حاصل کر لی ہے۔ قومی خلائی ایجنسی سپارکو نے اپنے پہلے انسانی خلائی مشن کے لیے خلا بازوں کے انتخاب کا دوسرا اہم مرحلہ مکمل کر لیا ہے، جس کے بعد پاکستان کے پہلے ‘ایسٹروناٹ’ کی خلا میں روانگی کی تیاریاں حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ مشن محض ایک سفر نہیں بلکہ برسوں کی محنت کا ثمر ہے۔ ابتدائی سکریننگ کے بعد شارٹ لسٹ کیے گئے 2 امیدوار اب ایک کٹھن تربیتی دورانیے سے گزریں گے۔ منتخب امیدواروں کو چھ ماہ تک خصوصی تربیت دی جائے گی، جس میں خلائی جہاز کے کنٹرول، سائنسی تجربات اور خلا میں بقا کے طریقے شامل ہیں۔
یہ اقدام پاکستان کی عالمی سائنسی ساکھ کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔ چین نے پاکستان کو اپنے خلائی پروگرام میں پہلا غیر ملکی پارٹنر منتخب کیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بیجنگ اسلام آباد کی سائنسی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے۔ اس مشن کی کامیابی کے بعد پاکستان خلا میں انسان بھیجنے والا دنیا کا ایک اہم ملک بن جائے گا، جس سے ملک میں سائنسی تعلیم اور تحقیق کو نئی تحریک ملے گی۔




