واشنگٹن / اسلام آباد: پاکستان کی اعلیٰ سول و فوجی قیادت کی عالمی سطح پر کامیاب مداخلت کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی درخواست کو قبول کرتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی کارروائی فی الحال مؤخر کرنے اور جنگ بندی میں توسیع کا تاریخی اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایک ایسا دعویٰ کیا ہے جس نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے کہا حقیقی ناکہ بندی: آبنائے ہرمز کو ایران نے نہیں بلکہ امریکی افواج نے مکمل طور پر سیل کر رکھا ہے۔اس ناکہ بندی سے ایران کو روزانہ 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران اپنی ساکھ بچانے کے لیے بندش کا دعویٰ کر رہا ہے، جبکہ وہ معاشی طور پر اتنا ٹوٹ چکا ہے کہ اسے فوری کھولنا چاہتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک "بڑی ڈیل” کا اشارہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور اعلیٰ سطح کا وفد مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ "پاکستان کی قیادت کی درخواست پر ہم ایران کو ایک آخری موقع دے رہے ہیں۔ اگر ایران نے متفقہ تجاویز پیش نہ کیں اور تعاون نہ کیا، تو اسے اور اس کی قیادت کو نیست و نابود کر دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے قبل ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی جیلوں میں قید خواتین کو فوری رہا کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک کوئی حتمی اور ٹھوس معاہدہ نہیں ہو جاتا، امریکی فوج کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم نہیں کی جائے گی۔
بین الاقوامی مبصرین اس پیش رفت کو پاکستان کی "ماسٹر سٹروک” سفارت کاری قرار دے رہے ہیں۔ واشنگٹن سے تہران تک، تمام نظریں اب اسلام آباد پر جمی ہیں جہاں ہونے والے مذاکرات یہ طے کریں گے کہ آیا مشرقِ وسطیٰ مستقل امن کی طرف بڑھے گا یا مکمل تباہی کی طرف۔




