لاہور : سماجی تحفظ کے ایک بڑے مشن کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پاکستان کے پہلے "رحمت کارڈ” پروگرام کی بنیاد رکھ دی ہے۔ یہ پروگرام بیواؤں اور یتیم بچوں کو معاشی طور پر سہارا دینے کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
50 ہزار بیوائیں اور یتیم بچے پہلے مرحلے میں مالی امداد کے حقدار قرارپائے ہیں۔ صوبائی زکوٰۃ فنڈ سے 5 ارب روپے (5000 ملین) کی تاریخی رقم مختص کی گئی ہے۔ ڈیجیٹل کارڈ کے ذریعے امداد کی فراہمی، جس سے بینکوں یا دفاتر کے چکر کاٹنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔
معاون خصوصی راشد نصراللہ کے مطابق، تمام ڈیٹا کی تصدیق کے بعد امداد کی سو فیصد شفاف منتقلی یقینی بنائی گئی ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ کارڈ ریاست کی جانب سے یتیموں کے سر پر دستِ شفقت ہے۔ "ہمارا مقصد کمزور طبقے کو معاشی طور پر بااختیار بنانا ہے۔ رحمت کارڈ اس بات کی ضمانت ہے کہ ریاست اپنی بیواؤں اور یتیموں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔اس اقدام کو عوامی حلقوں کی جانب سے بیواؤں اور یتیموں کی فلاح و بہبود کے لیے پنجاب حکومت کا سب سے بڑا اور موثر منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔




