بیجنگ/سانیا:صدرِ پاکستان آصف علی زرداری چین کا اپنا پانچ روزہ سرکاری دورہ کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہو گئے ہیں۔ ان کے اس دورے کو پاک چین اقتصادی شراکت داری کے تناظر میں "انتہائی نتیجہ خیز” قرار دیا جا رہا ہے۔
دورے کے دوران پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے مابین زراعت، توانائی، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے کئی اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدوں کا مقصد پاکستان میں صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ سانیا ایئرپورٹ پر کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (CPC) ہائی نان کے سینئر رہنما وانگ چیانگ نے صدرِ مملکت کو الوداع کیا۔ اس موقع پر روایتی گرمجوشی کا مظاہرہ کیا گیا جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اعتماد کی علامت ہے۔
صدر زرداری نے چینی بزنس کمیونٹی سے ملاقاتوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے سازگار ماحول اور خصوصی مراعات پر روشنی ڈالی، جس کے جواب میں چینی کمپنیوں نے پاکستان کے مختلف منصوبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
صدرِ مملکت نے اپنے دورے کے دوران اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترے ہیں۔ انہوں نے چینی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان معاہدوں سے پاکستان میں معاشی استحکام آئے گا اور عوامی سطح پر خوشحالی کے نئے دروازے کھلیں گے۔




