تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان ایران نے خطے کے اہم ترین بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ اور اپنے جوہری پروگرام پر اپنا حتمی مؤقف دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اور اس کے انتظام و انصرام کا فیصلہ صرف ایران اور عمان کی خود مختار مرضی سے ہوگا، اس میں کسی بیرونی مداخلت کی گنجائش نہیں ہے۔
ترجمان نے جوہری پروگرام پر جاری قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے کہااس وقت ہماری تمام تر توجہ جنگ کے خاتمے پر لگی ہوئی ہے، ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں کر رہا اور نہ ہی اب تک کوئی معاہدہ طے پایا ہے۔
تاہم، انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بیک چینل سفارت کاری اب بھی فعال ہے اور ایران کا امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔




