اسلام آباد:آئندہ مالیاتی بجٹ کو کاروباری دوست بنانے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں وزیراعظم ہاؤس میں ایک اہم ترین معاشی سیشن منعقد ہوا، جس میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) اور یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) کے اعلیٰ سطحی وفد نے شرکت کی۔ ملاقات کا بنیادی مقصد تاجر برادری کو اعتماد میں لینا اور بجٹ میں ان کی سفارشات کو شامل کرنا تھا۔
یو بی جی کے سرپرستِ اعلیٰ ایس ایم تنویر نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ پاکستان کے معاشی استحکام کا راستہ صرف اور صرف برآمدات کی ترقی سے جڑا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجٹ میں برآمدات پر مبنی نمو (Export-led Growth) کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے صنعتی شعبے کو درپیش رکاوٹوں اور ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے تاجر برادری کا چارٹر آف ڈیمانڈ وزیر اعظم کے سامنے پیش کیا۔
ملک بھر کے مختلف چیمبرز آف کامرس کے نمائندوں نے مقامی صنعتوں کی بحالی، روزگار کے مواقع بڑھانے اور پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے بجٹ میں ٹھوس ریلیف دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بزنس کمیونٹی کے وفد کی تجاویز کو انتہائی صائب قرار دیتے ہوئے کہا کہ "پاکستان کی معاشی بقا برآمدات بڑھانے میں ہی پنہاں ہے۔ ہم آئندہ وفاقی بجٹ میں ایسے اقدامات شامل کر رہے ہیں جو نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کریں گے بلکہ ہماری مقامی صنعتوں کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بھی بنائیں گے۔
بزنس کمیونٹی اور حکومت کے درمیان ہونے والی اس تفصیلی ملاقات کو معاشی ماہرین آئندہ بجٹ کی سمت متعین کرنے کے لیے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔




