دبئی / واشنگٹن: آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپ کے بعد سفارتی محاذ پر بھی تیزی آ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی فوجی طاقت اور غیرت کا اعتراف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کے پاس اب امریکہ کے ساتھ نئی ڈیل کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران ایک غیور اور طاقتور ملک ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے اب تک جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق نہیں کیا۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکی دباؤ کے باعث بالاخر ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا کیونکہ اب معاہدے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔ امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر آتے ہی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں نیچے آ جائیں گی۔یہ سنسنی خیز سیاسی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب گزشتہ روز خلیجی پانیوں میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان براہِ راست تصادم ہوا۔
امریکی مؤقف: سینٹ کام (CENTCOM) کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی بحری جہازوں پر 4 خودکش ڈرونز داغے گئے، جنہیں مار گرانے کے بعد امریکی طیاروں نے اپنے دفاع میں کارروائی کی۔ اس کارروائی میں ایران کے ساحلی علاقوں گوروک اور جزیرہ قشم میں واقع ایرانی ریڈار تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی فورسز نے اپنی حدود کے قریب امریکی بحری جہازوں کی مشکوک موجودگی پر انہیں پیچھے ہٹانے کے لیے صرف "وارننگ فائر” کیے تھے۔




