پاکستان
Trending

ہراسگی کیس میں نیا موڑ؛ "مومنہ اقبال سے 2020 سے مراسم تھے، شادی چھپانے پر رشتہ توڑا”، لیگی ایم پی اے

این سی سی آئی اے میں ثاقب چڈھر کا تحریری بیان منظرِ عام پر؛ اداکارہ کے اکاؤنٹ میں 83 لاکھ روپے کی منتقلی اور بہن پر بلیک میلنگ کا الزام

 

 

لاہور : معروف اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا ہائی پروفائل مقدمہ اب مالیاتی اور ذاتی تنازع کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی (NCCIA) میں مسلم لیگ (ن) کے صوبائی اسمبلی کے رکن (ایم پی اے) ثاقب چڈھر کا جمع کرایا گیا تفصیلی جوابی بیان سامنے آنے کے بعد کیس میں ایک چونکا دینے والی پیش رفت ہوئی ہے۔

سائبر کرائم حکام کو دیے گئے اپنے تحریری بیان میں لیگی ایم پی اے ثاقب چڈھر نے اداکارہ کے ساتھ طویل تعلقات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی مومنہ اقبال سے پہلی ملاقات سال 2020 میں ہوئی تھی جو بعد میں قریبی مراسم میں تبدیل ہو گئی۔ انہوں نے اپنے اوپر لگے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دوری کی اصل وجہ اداکارہ کی سابقہ شادی تھی؛ مومنہ اور ان کے اہلخانہ نے طلاق کے حقائق کو ان سے پوشیدہ رکھا اور علم ہونے پر جب انہوں نے شادی سے انکار کیا تو یہ تنازع کھڑا کیا گیا۔

ثاقب چڈھر نے اپنے دفاع میں بھاری مالی لین دین کے دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اداکارہ کے خاندان پر سنگین الزامات عائد کیے۔ بیان کے مطابق انہوں نے مومنہ اقبال کے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں مختلف اوقات میں 83 لاکھ روپے منتقل کیے، جبکہ دونوں کے اندرون و بیرونِ ملک کیے گئے تمام اسفار کے اخراجات بھی انہوں نے خود اٹھائے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اداکارہ کی بہن رمشا اقبال نے انہیں بلیک میل کر کے 10 ہزار آسٹریلین ڈالر وصول کیے، جبکہ رمشا کی یونیورسٹی فیس کی مد میں بھی 13 ہزار آسٹریلین ڈالر کی رقم انہوں نے اپنی جیب سے ادا کی تھی۔

واضح رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے ہراسگی اور سنگین نتائج کی دھمکیوں کے الزامات کے بعد یہ کیس میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ این سی سی آئی اے اب ایم پی اے ثاقب چڈھر کے اس حالیہ اعترافی و جوابی بیان اور فریقین کے بینکنگ ریکارڈز کی روشنی میں مقدمے کی اعلیٰ سطحی تفتیش کر رہی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button