تہران:مشرقِ وسطیٰ کی نازک صورتحال اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پاکستان نے سفارتی محاذ پر اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ایک اہم اور سٹرٹیجک ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے دوران محسن نقوی نے پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر کے نام بھیجا گیا خصوصی اور انتہائی اہم مکتوب ایرانی وزیر خارجہ کے حوالے کیا۔ ایران امریکہ جنگ کے بعد وفاقی وزیر داخلہ کا یہ چوتھا دورہِ تہران ہے، جسے خطے کے سیاسی منظر نامے میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ میں ہونے والی اس ملاقات میں ایران اور امریکہ کے مابین جاری بالواسطہ مذاکراتی عمل اور خطے میں جاری تشنج کو کم کرنے کے لیے مختلف سفارتی آپشنز پر غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں کسی بھی نئے تصادم کے حق میں نہیں ہے اور مسائل کا حل صرف مذاکرات کی میز پر دیکھنا چاہتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے علاقائی امن و استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے فعال اور مصالحتی کردار کا اعتراف کرتے ہوئے اسے سراہا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی سے بھی ایک تفصیلی ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں پاک ایران سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے، باہمی انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو مزید مربوط کرنے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر اہم پیشرفت ہوئی۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ان متواتر دوروں کو تہران اور اسلام آباد کے مابین گہرے تزویراتی روابط اور اعلیٰ سطحی اعتماد کا مظہر قرار دیا ہے۔




