راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی اور مسائل کے حل کے لیے مؤثر حکمرانی بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ بلوچستان کے معاملات کو صرف سکیورٹی کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و استحکام کے لیے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ گورننس، معاشی ترقی، تعلیم، صحت اور عوامی سہولیات کی بہتری پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر حکمرانی کے لیے انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہو تو اس پر غور کیا جانا چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ رواں سال ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 2 ہزار 84 دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سمیت پاکستانی شہریوں نے بھی قربانیاں دیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور انہیں ریاستی قانون کے مطابق ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی ادارے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے بلوچستان سے متعلق کہا کہ بعض عناصر صوبے کے حالات کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ریاستی ادارے امن، استحکام اور ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے لاپتہ افراد کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ کمیشن کے ذریعے مختلف درخواستوں پر کارروائی کی گئی ہے اور حقائق سامنے لانے کے لیے ادارے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی کے لیے گڈ گورننس، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست عوام کے تحفظ، ترقی اور امن کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی۔




