کوئٹہ: کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور دیگر عسکری تنظیموں سے وابستہ افراد کی جانب سے ہتھیار ڈالنے اور لاتعلقی اختیار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
سابق رکن ارمان بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ روزگار کی تلاش میں دوست کے ہمراہ ایران گیا تھا، جہاں مسلح افراد نے اسے اغوا کر کے پہاڑی علاقے میں منتقل کر دیا۔
ارمان بلوچ کے مطابق پہاڑوں میں اس کی ملاقات کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ کے کمانڈر قمر بروہی سے ہوئی، جس کے بعد وہ تنظیم میں شامل ہو گیا۔ اس نے بتایا کہ چھ ماہ تک تنظیم کے ساتھ رہنے کے دوران اسے عسکری تربیت دی گئی اور وہ دو دہشت گرد حملوں میں بھی شریک رہا۔
ارمان بلوچ نے کہا کہ وہ بعد ازاں کالعدم تنظیم سے الگ ہو گیا۔ حکام کے مطابق کالعدم عسکری تنظیموں سے وابستہ افراد کی واپسی اور لاتعلقی کا عمل جاری ہے۔




