اسلام آباد: پاکستان اور مالدیپ نے آئندہ دو سال کے دوران دوطرفہ تجارت کا حجم ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان 20 مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، تعلیم اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے بعد مشترکہ پریس گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دیرینہ تاریخی روابط اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک مفاہمتی یادداشتوں پر مؤثر عمل درآمد کے لیے بروقت فیصلے اور تیز رفتار اقدامات کریں گے۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ پاکستان مالدیپ کے پانچ ملین درخت لگانے کے منصوبے میں معاونت کے لیے ایک لاکھ زیتون کی قلمیں اور مختلف پودوں کے ایک لاکھ بیج فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے شعبے میں بھی مالدیپ کو اپنی تکنیکی مہارت اور تجربے سے فائدہ پہنچانے کے لیے تیار ہے۔
شہباز شریف نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تنازع کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو غیر مؤثر بنانے کے بھارتی فیصلے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور زور دیا کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔
اس موقع پر مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 60 برس سے مالدیپ کا قابلِ اعتماد دوست ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے تعلقات کو نئی جہت دینے اور ایسی شراکت داری قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے جس سے دونوں ملکوں کے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔
صدر مالدیپ نے تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے، سیاحت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے اور باہمی رابطوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے نوجوانوں کے تبادلے، ہنرمندی کی ترقی، کاروبار، جدت اور نوجوان قیادت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
ڈاکٹر محمد معیزو نے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کو اہم قرار دیا اور سارک کی بحالی کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے فلسطینی عوام کے ساتھ حمایت اور یکجہتی کا بھی اظہار کیا۔
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تبادلہ کی جانے والی 20 مفاہمتی یادداشتوں میں اطلاعاتی ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم، سماجی تحفظ، دفاع، بحری سلامتی، زراعت، ماہی گیری، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، نوجوانوں اور کھیلوں کی ترقی، فضائی رابطوں، سیاحت، ثقافت، ماحولیات اور غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام سمیت مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے۔




