اسلام آباد/دوشنبے: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا تاجکستان کا دورہ مکمل ہوگیا، جس کے دوران انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ حکومت کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے علاقائی اقتصادی تعاون، تجارت اور رابطوں کے فروغ پر زور دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں منعقدہ اجلاس کے محدود اور توسیعی دونوں سیشنز میں شرکت کی۔ انہوں نے علاقائی اقتصادی انضمام کو فروغ دینے کے لیے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور یوریشیا کو ملانے میں اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں پائیدار اقتصادی ترقی اور استحکام کے لیے باہمی اعتماد، خودمختار مساوات اور اتفاق رائے کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کو علاقائی امن، تجارت اور ٹرانسپورٹ روابط کے فروغ کے لیے اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔
اسحاق ڈار نے ایس سی او چیمبرز آف کامرس اور بزنس کونسل کو فعال بنانے، انٹربینک کنسورشیم کے کردار کو مؤثر کرنے اور محفوظ سپلائی چینز کی ترقی پر زور دیا۔ انہوں نے یوریشیائی توانائی راہداریوں کے فروغ، ماحولیاتی تعاون، تکنیکی جدت اور تعلیمی و ثقافتی تبادلوں کو وسعت دینے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
دورے کے دوران نائب وزیراعظم نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمان اور وزیر خارجہ سراج الدین مہرالدین سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں باہمی تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے کھلے اور قواعد پر مبنی علاقائی اقتصادی نظام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ایس سی او کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر پُرامن، باہم مربوط اور خوشحال خطے کے قیام کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔




