اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی معیشت اور نظامِ حکومت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹائزیشن کے استعمال کو فروغ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ حکومت اور علی بابا گروپ کے تعاون سے تجارت، برآمدات، زراعت اور سرکاری خدمات سمیت مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل سہولیات کو وسعت دی جائے گی۔
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹائزیشن اور علی بابا گروپ کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں حکومت پاکستان اور علی بابا کے درمیان تعاون کے تحت جاری منصوبوں اور مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استفادہ کرکے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے، برآمدات میں اضافے، زرعی پیداوار بہتر بنانے اور سرکاری خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستانی زرعی اجناس کی چینی منڈیوں تک رسائی کے لیے علی بابا کے تعاون کو اہم قرار دیتے ہوئے زرعی شعبے میں آٹومیشن کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستانی مصنوعات کو عالمی خریداروں تک پہنچانے کے لیے علی بابا کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر خصوصی پاکستان پویلین قائم کیا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے تجارتی دستاویزات کی ڈیجیٹل تصدیق کا نظام بھی فعال ہو چکا ہے، جس سے تجارتی امور کو ڈیجیٹل طریقے سے انجام دینے میں سہولت میسر آئے گی۔
وزیراعظم نے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی زور دیا اور کینسر کی ابتدائی تشخیص کے لیے جدید نظام جلد متعارف کرانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے آئی ٹی گریجویٹس کی تربیت کے پروگرام کے آغاز اور پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کی نگرانی کے لیے جدید تجزیاتی نظام رائج کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کے لیے جدید ڈیٹا پلیٹ فارم کی تیاری اور تعلیم، ریلوے، ڈاک اور شہری انتظام میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ استعمال کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ علی بابا گروپ کے ساتھ تعاون کے تحت جاری تمام منصوبوں پر واضح اہداف، مقررہ مدت اور مؤثر نگرانی کے نظام کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ضروری اقدامات نومبر تک مکمل کرکے پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔




