اسلام آباد: امریکی جریدے ‘سمال وارز جرنل’ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں افغانستان کے موجودہ سیاسی اور سماجی ڈھانچے کو عالمی سلامتی کے لیے ایک ابھرتا ہوا خطرہ قرار دے دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان کی نااہل رجیم نے اپنی انتہا پسندانہ پالیسیوں سے نہ صرف افغان عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام کی آگ میں دھکیل دیا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان کی نظریاتی سختی اور بین الاقوامی برادری سے کٹ کر رہنے کی پالیسی نے افغانستان کو ایک ایسی تنہائی میں دھکیل دیا ہے جس کے اثرات سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ طالبان کی ساختی کمزوریوں اور اداروں کی ناکامی نے ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔
جریدے کے مطابق معاشی سکڑاؤ کے باعث افغانستان کی 50 فیصد سے زائد آبادی شدید غربت کا شکار ہے اور بنیادی ضرورتِ زندگی سے محروم ہے۔ خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر پابندیوں نے افغان اداروں کے زوال کو مزید مہمیز دی ہے، جس سے آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک ہو چکا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان رجیم کے زیرِ سایہ دہشت گرد گروہ اور مجرمانہ نیٹ ورکس تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجیم منشیات فروشی اور شدت پسندی کے سہارے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، جو کہ عالمی برادری کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے۔
عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان نے اپنا رویہ نہ بدلا تو افغانستان سے اٹھنے والی شدت پسندی کی لہر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔




