بین الاقوامی

تھائی لینڈ کی سیاسی تاریخ کا نیا موڑ: کم عمر وزیر اعظم فون کال لیک ہونے پر معطل

بینکاک: تھائی لینڈ میں قیادت، نوجوانی اور تجربے کا امتزاج ایک لمحے میں سوالیہ نشان بن گیا، جب آئینی عدالت نے پیتونگاترن شیناوترا کو فون کال لیک ہونے پر وزارت عظمیٰ سے معطل کر دیا۔

ملک کی تاریخ میں سب سے کم عمر وزیر اعظم کے طور پر ابھرنے والی پیتونگاترن کا سیاسی سفر غیر روایتی مگر پُرعزم رہا، مگر ایک 15 جون کی خفیہ گفتگو نے ان کے سیاسی کیریئر کو دھندلا دیا۔

لیک آڈیو میں وہ کمبوڈیا کے سابق وزیر اعظم سے سرحدی تنازع پر نرمی سے بات کرتی سنائی دیں، مگر تنقید اس وقت شدت اختیار کر گئی جب انہوں نے اپنی ہی فوجی قیادت کو "ثانوی حیثیت” دینے کی بات کی۔

36 سینیٹرز نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی گفتگو قومی سلامتی، آئینی وفاداری اور فوجی نظم کے خلاف تھی۔ عدالت نے مؤقف تسلیم کرتے ہوئے ان کی فوری معطلی کا حکم دے دیا۔

پیتونگاترن نے فیصلے کے فوراً بعد عہدہ چھوڑ دیا، عوام سے معذرت کی اور موقف اپنایا کہ ان کی گفتگو "ایک سفارتی حکمت عملی” تھی، جس کا مقصد تنازع کا پرامن حل نکالنا تھا۔

اب عارضی طور پر نائب وزیر اعظم نے حکومت کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، مگر یہ سوال برقرار ہے:
"کیا سچ بولنے کی قیمت قیادت کی قربانی ہوتی ہے؟”

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button