پاکستان

خودمختاری پر حملہ ہوا تو ردعمل "دردناک اور دوگنا” ہوگا، آرمی چیف کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں دوٹوک پیغام

 

اسلام آباد:چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) اسلام آباد میں نیشنل سیکیورٹی اور وار کورس کے گریجویٹ افسران سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری یا سرحدی سالمیت پر کسی بھی حملے کا جواب "دردناک اور دوگنا” ہوگا۔

آرمی چیف نے کہا کہ جنگیں سیاسی نعروں، میڈیا پر بیانات یا مہنگے ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ مہارت، ادارہ جاتی طاقت، قومی عزم اور یقین سے جیتی جاتی ہیں۔ انہوں نے موجودہ عالمی اور علاقائی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے افسران پر زور دیا کہ وہ ذہنی طور پر تیار، آپریشنل طور پر واضح اور ادارہ جاتی طور پر مضبوط رہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کی جانب سے "آپریشن سندور” میں ناکامی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس مہم میں بھارت اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا اور اب اسے "غیر منطقی دلائل” سے جواز دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کامیاب آپریشن "بنیان مرصوص” کو بیرونی امداد سے جوڑنا نہ صرف بے بنیاد الزام تراشی ہے بلکہ پاکستان کی ادارہ جاتی طاقت اور داخلی صلاحیتوں کو نظر انداز کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اس دو طرفہ تنازع میں دیگر ممالک کو گھسیٹنا خطے میں خود کو نیٹ سیکیورٹی فراہم کنندہ کے طور پر پیش کرنے کی ناکام کوشش ہے، جبکہ درحقیقت خطہ اس کے انتہا پسند ہندوتوا نظریے سے تنگ آ چکا ہے۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اصولی اور باہمی احترام پر مبنی خارجہ پالیسی اپنائی ہے اور وہ خطے میں استحکام پیدا کرنے والی طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔

آرمی چیف نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کی جانب سے پاکستان کے شہری علاقوں، فوجی تنصیبات، معاشی مراکز یا بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا فوری، شدید اور دوگنا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کسی بھی اقدام کی تمام تر ذمہ داری جارح ریاست پر عائد ہو گی۔

اختتام پر انہوں نے افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت، بلند حوصلے اور تیاری پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے افسران کو تلقین کی کہ وہ دیانت، بے لوث خدمت اور وطن سے غیر متزلزل وفاداری کو اپنا نصب العین بنائیں۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button