اسلام آباد، کراچی ، لاہور:حکومت اور شوگر انڈسٹری نے چینی کی ایکس مل قیمت 165 روپے فی کلو طے کر دی ہے تاکہ ملک میں چینی کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔ وزارت غذائی تحفظ نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس قیمت پر عوام کو سستی چینی فراہم کریں۔
لیکن مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں بدستور بڑھ رہی ہیں اور کئی شہروں میں 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں، جس سے عام صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ چینی کی مہنگائی نے گھریلو بجٹ پر بوجھ بڑھا دیا ہے اور مہنگائی میں اضافہ کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔
حکومت نے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے 5 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، لیکن اس فیصلے پر سیاسی تنازعات بھی جاری ہیں۔ سابق نگران وزیر فواد حسن فواد نے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے درآمدات کی حکمت عملی پر سوال اٹھائے ہیں۔
پاکستان میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے حکومت اور شوگر انڈسٹری نے ایک اہم معاہدہ کیا ہے جس کے تحت چینی کی ایکس مل قیمت 165 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔ وزارت غذائی تحفظ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومتیں اس قیمت کو نافذ کرتے ہوئے عوام تک سستی چینی کی فراہمی کو یقینی بنائیں گی۔
تاہم، مارکیٹ میں چینی کی قیمت 200 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جو اس معاہدے کے اثرات کو محدود کر رہی ہے۔ حکومت نے قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے 5 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اس حکمت عملی پر سیاسی حلقوں میں اختلافات موجود ہیں۔ سابق نگران وزیر فواد حسن فواد نے درآمدات کے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے، جس سے حکومتی پالیسی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں استحکام کے لیے مجموعی معاشی عوامل، درآمدات، اور مقامی پیداوار کا متوازن انتظام ضروری ہے۔




