پاکستان

توانائی بحران کے حل کے لیے حکومت نے نئی سولر پالیسی متعارف کرا دی

اسلام آباد:پاکستان میں توانائی کے دیرینہ بحران اور بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کے پیش نظر حکومت نے نیٹ میٹرنگ کے موجودہ نظام کو بتدریج ختم کر کے گراس میٹرنگ پر منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نئی پالیسی کا مقصد توانائی کی پیداوار اور تقسیم کے نظام کو شفاف، منصفانہ اور پائیدار بنانا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق موجودہ نیٹ میٹرنگ سسٹم کے تحت سولر صارفین اپنی اضافی بجلی قومی گرڈ کو فروخت کرتے ہیں، اور اس کے بدلے میں انہیں مالی ادائیگی کی جاتی ہے۔ اس نظام کے باعث جہاں سولر پیداوار میں اضافہ ہوا، وہیں عام بجلی صارفین پر مالی بوجھ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق صرف 2024 کے اختتام تک یہ بوجھ 159 ارب روپے تک جا پہنچا، جبکہ اگر یہی نظام جاری رہتا تو 2034 تک یہ بوجھ 4240 ارب روپے ہو سکتا تھا۔
گراس میٹرنگ نظام کیا ہے؟

نئی پالیسی کے تحت اب بجلی کی پیداوار اور استعمال کی علیحدہ علیحدہ پیمائش کی جائے گی۔ اس نظام کو گراس میٹرنگ کہا جاتا ہے، جو نہ صرف شفافیت بڑھائے گا بلکہ بجلی کے نظام پر اضافی بوجھ کم کرنے میں بھی مددگار ثابت

ہوگا۔
پالیسی کی اہم جزئیات

پرانے نیٹ میٹرنگ صارفین بدستور 27 روپے فی یونٹ کے نرخ پر بجلی فروخت کرتے رہیں گے۔

نئے صارفین کے لیے ابتدائی طور پر 11.33 روپے فی یونٹ نرخ مقرر کیا گیا ہے، جو مستقبل میں 13 سے 14 روپے تک بڑھ سکتا ہے۔

اس پالیسی سے حکومت پر 103 ارب روپے کا مالی بوجھ کم ہوگا۔

مجموعی طور پر 8500 میگاواٹ اضافی بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوسکے گی۔

درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہونے سے زرمبادلہ بچ سکے گا
طبقاتی فرق اور مالی انصاف

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ سے زیادہ تر فائدہ بڑے شہروں کے پوش علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو ہوا، جو بجلی کے فکسڈ چارجز اور کیپسٹی پیمنٹس ادا نہیں کرتے۔ اس وجہ سے دیگر صارفین پر مالی دباؤ بڑھتا گیا۔ نئی پالیسی اس غیرمنصفانہ تقسیم کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ پالیسی نہ صرف توانائی کے شعبے میں مالی استحکام لائے گی بلکہ پاکستان کی توانائی ضروریات کو پائیدار بنیادوں پر پورا کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button