کالم :اک سوچ
تحریر:سعدیہ مجید
پاکستان میں حالیہ دنوں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا: ایک 18 سالہ لڑکی کو، جو چھ ماہ کی حاملہ تھی، صرف کردار کے شک کی بنیاد پر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ ایک ایسا قتل جو صرف ایک جان نہیں، دو جانوں کا خاتمہ تھا — ایک ماں اور ایک بے زبان بچے کی۔ اس ظلم پر سوال صرف قانون کا نہیں، ضمیر، مذہب اور فکری نظام کا بھی ہے۔
یہ واقعہ عورت کے وجود، اس کی تخلیقی طاقت، اور اس کے جسم میں پلنے والی روح کے تقدس پر براہِ راست حملہ ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مریم علیہا السلام کی بابت فرماتے ہیں: "وَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا” (التحريم: 12) یعنی "ہم نے اس (مریم) کے رحم میں اپنی روح پھونکی۔” یہ الفاظ واضح کرتے ہیں کہ ایک عورت کا جسم تخلیقِ الٰہی کا مقام ہے۔ اس میں صرف خون نہیں، الٰہی روح کی آمیزش ہوتی ہے۔ جب عورت حاملہ ہوتی ہے، وہ محض ایک ماں نہیں بلکہ رب کی تخلیق کا ذریعہ ہوتی ہے — وہ وحدت الوجود کی چلتی پھرتی تصویر بن جاتی ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "الجنة تحت أقدام الأمهات” (نسائی) ماں کے قدموں تلے جنت ہونا دراصل اس تخلیقی، جسمانی، اور روحانی سفر کی عظمت کا اعتراف ہے جس سے وہ گزرتی ہے۔ مگر وہ معاشرہ جو اس کے کردار کو شک کے ترازو میں تولے، اُس کے بطن کی حرمت کو نہ سمجھے، اور اس کی پارسائی پر فتویٰ دے —وہ معاشرہ خود اپنی انسانیت سے محروم ہو چکا ہوتا ہے۔
جدید فکری مباحث، خاص طور پر feminist thought، دنیا بھر کی مختلف روایات میں عورت کو روحانی اور سماجی “authorship” کی حیثیت سے دوبارہ تسلیم کرتے ہیں۔ ہندومت میں بھکتی کوی شاعرہ سنت مِرابائی نے صنفی درجہ بندی کو چیلنج کیا، جبکہ بدھ مت میں ننس، جنہیں کرما لیکشے تسومو نمایاں کرتی ہیں، پوری مذہبی شرکت کے رکاوٹوں سے مقابلہ کرتی رہی ہیں۔ مغربی نظریہ پرداز کیٹ ملیٹ سیاسی پَدرشتریت کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں اور عورتوں کو ثقافتی و اخلاقی تخلیق کے مرکز میں رکھتی ہیں — ایک فکر جو اسلامی نسوانیت کی امینہ ودود کے ذریعے بھی دہرائی گئی ہے، جو قرآن کی ایسی تفسیر کی وکالت کرتی ہیں جو عورتوں کی مساوی تخلیقی و اخلاقی صلاحیت کو ثابت کرتی ہے۔ یہ مختلف آوازیں، اپنی منفرد روایات میں مستحکم، اس بات پر اتفاق کرتی ہیں کہ عورت کی تخلیق کا کردار — زندگی، معنی، اور انصاف کے تخلیق کار کے طور پر — تسلیم اور محفوظ کیا جانا چاہیے¹۔
اسلامی فقہ میں حاملہ عورت کو مکمل تحفظ دیا گیا ہے۔ الدر المختار (جلد 6، صفحہ 144) میں ہے: "إذا حُبِست المرأة الحامل لأمر، تُؤخر العقوبة حتى تضع حملها.” اسی طرح ابن قدامہ (المغني) فرماتے ہیں: "الحامل لا تُقتل حتى تضع ولدها، سواء كان الحمل من زنا أو نكاح.” یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شریعت صرف عورت کی نہیں، اُس کے بطن میں موجود جان کی بھی محافظ ہے — چاہے وہ جان کس حال میں آئی ہو۔
قرآن عورت کی پاکدامنی پر تہمت لگانے والوں کو وعید دیتا ہے: "إِنَّ ٱلَّذِينَ يَرْمُونَ ٱلْمُحْصَنَٰتِ ٱلْغَٰفِلَٰتِ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ لُعِنُوا۟ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌۭ عَظِيمٌۭ” (النور: 23) یعنی وہ جو پاکدامن مؤمن عورتوں پر بہتان لگاتے ہیں، ان پر دنیا و آخرت کی لعنت ہے۔
جب ایک عورت رب کی امانت لیے ہوتی ہے، اس وقت وہ نہ صرف تخلیق کا ذریعہ بلکہ عبادت کی حالت میں ہوتی ہے۔ اس کی پارسائی کا معیار انسانی زبانیں نہیں، بلکہ رب کا علم، رحمت اور عدل ہوتا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے: "إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ” (الفجر: 14) یعنی: "بے شک تمہارا رب گھات میں ہے۔” وہ ذات جو اس عورت کے ذریعے سے انسان پیدا کر رہی ہے، وہی ذات اس کے ساتھ ہونے والے ظلم کا حساب لے گی۔ عورت کی گواہی ختم نہیں ہوتی — وہ رب کے حضور شروع ہوتی ہے۔ وہ ذات جو دلوں کے حال جانتی ہے، وہی اس پارسائی کی گواہی دے گی۔ عورت رب کی تخلیق کا راز ہے۔ اسے مارنے والے، دراصل رب کی امانت کے قاتل ہیں۔
موجودہ پوسٹ ماڈرن دنیا میں جہاں حقیقت کو نسبتی اور سبجیکٹیو حیثیت دی جاتی ہے، وہاں انسانی وجود، اخلاق اور انصاف کو بھی فراست سے دیکھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں عورت کی تخلیق کا تصور، اس کی حیاتیاتی اور روحانی حیثیت، اور اس کی عزت و حرمت کو پوسٹ ماڈرن لوگ اکثر فریموں اور روایتوں کے ذریعے زیر بحث لاتے ہیں تاکہ اسے کمزور یا منتشر کر سکیں۔ مگر یہ نسلی اور سوشیو پالیٹیکل زاویے اکثر قیمتی انسانی پہلوؤں، خاص طور پر رحم اور اخلاقی ذمہ داری کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
پوسٹ ماڈرنزم کی نسبت پسندی کے باعث معاشرے میں بنیادی اخلاقی اقدار اور خواتین کی حفاظت کے معاملات پیچیدہ اور غیر یقینی ہو جاتے ہیں۔ یہ فلسفہ اکثر ذاتی آزادی کو کلیدی قرار دیتا ہے لیکن اس عمل میں بے گناہ عورتوں کے تحفظ اور ان کی تخلیقی حیثیت کو کم تر بنا دیتا ہے۔ ایسے میں، ایک واضح شرعی اور اخلاقی فریم ورک کی ضرورت بڑھ جاتی ہے جو عورت کی اخلاقی اور جسمانی حرمت کو یقینی بنائے، اور معاشرتی انصاف کی بحالی کرے۔
لہٰذا پوسٹ ماڈرن دور میں عورت کے وجود کی بے قدری اور اس کے ساتھ ہونے والے تشدد کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مستحکم اخلاقی اصولوں، روحانی تناظر، اور شریعت کے واضح پیغام کی طرف رجوع کریں جو تخلیق، عدل، اور رحمت کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ صرف ایک قانونی یا سماجی مسئلہ نہیں، بلکہ ربانی عدالت کی ایک فکری، اخلاقی اور روحانی ضرورت ہے۔
نوٹ: یہ کالم نگار/بلاگر کی ذاتی رائے ہے، اس سے ادارہ ہذا کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے




