پاکستان

سانحہ 9 مئی کے مجرموں کو سزا، نظام انصاف کی فتح

 

9 مئی 2023ء کو مشتعل عناصر نے عسکری تنصیبات اور قومی املاک کو نشانہ بنایا، جو ملکی سالمیت کے لیے بڑا نقصان تھا۔

سانحے کے بعد یہ سوال اہم تھا کہ کیا پاکستان کا نظام انصاف اتنا مؤثر ہے کہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا سکے؟ اب مختلف انسداد دہشت گردی عدالتوں نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کا عدالتی نظام قانون شکنوں کو سزا دلانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے دو اہم مقدمات میں 185 ملزمان میں سے 108 کو سزا سنائی، جن میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل اور صاحبزادہ حامد رضا بھی شامل ہیں۔ زیادہ تر ملزمان کو 10 سال قید کی سزائیں دی گئیں جبکہ سیال کاسترو، فواد چوہدری اور زین قریشی سمیت کئی افراد بری ہو گئے۔ اس سے قبل 22 جولائی کو سرگودھا، لاہور، فیصل آباد سمیت دیگر شہروں کی انسداد دہشت گردی عدالتوں نے بھی درجنوں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو 10 سال قید کی سزائیں دی تھیں۔

افواج پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے شروع سے ہی 9 مئی کے سانحے کو پوری قوم کا مقدمہ قرار دیا اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے بارہا واضح کیا کہ ذمہ داران کو ہر صورت قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ فوجی تنصیبات اور شہداء کی یادگاروں پر حملے کرنے والوں کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

 

آج کے فیصلے سے نہ صرف سانحہ 9 مئی کے متاثرین کو انصاف ملا ہے بلکہ یہ آئندہ ریاست دشمن سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے ایک مضبوط پیغام بھی ہے۔ یہ عدالتی کاروائی ملک کے قانون کی بالادستی، ریاستی وقار کی حفاظت اور نظام انصاف کی کامیابی کی واضح علامت ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button