برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستانی شہری جعلی ویزا دستاویزات کے ذریعے برطانیہ میں داخل ہو رہے ہیں، اور برطانیہ کا محکمہ داخلہ ان واضح جعلی دستاویزات کو منظور بھی کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستانی شہری مخصوص ویزا کنسلٹنٹس کو پچاس ہزار پاؤنڈ تک ادا کر کے جعلی سی وی، بینک اسٹیٹمنٹس اور ریفرنس لیٹرز حاصل کرتے ہیں جن میں املا اور گرائمر کی متعدد غلطیاں بھی ہوتی ہیں، لیکن پھر بھی یہ ویزے منظور ہو رہے ہیں۔
ٹیلیگراف کے ہاتھ لگنے والی ایک درخواست میں ایک فرضی اسپتال کی طرف سے دیا گیا ایسا ریفرنس موجود تھا جس میں نہ صرف گرامر کی واضح غلطیاں تھیں بلکہ اسپتال کا وجود بھی ثابت نہیں تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر کے علاقے میرپور میں قائم ایک ویزا کنسلٹنسی کے سی ای او نہ صرف جعلی دستاویزات تیار کرتے ہیں بلکہ یوٹیوب پر کھلے عام ایسے "شارٹ کٹس” کی تشہیر کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے ذریعے ویزا حاصل کرنے کی کامیابی کی شرح 98 فیصد ہے۔
اس سی ای او کی جانب سے مختلف ممالک بشمول برطانیہ، بلغاریہ، کینیڈا، فرانس، اور یونان کے ویزوں کے لیے الگ الگ پیکیجز دئیے جاتے ہیں۔ برطانوی ورک ویزا کے لیے فیس 32,700 پاؤنڈز سے شروع ہوتی ہے، جب کہ جعلی بینک اسٹیٹمنٹ تیار کرنے کی الگ فیس 2,615 پاؤنڈز ہے۔
ہرجب بھنگل کا کہنا ہے کہ کئی پاکستانی پہلے قانونی ویزے پر برطانیہ آتے ہیں اور بعد میں پناہ کے لیے اپلائی کرتے ہیں، اکثر یہ درخواست ویزے کی معیاد ختم ہونے سے پہلے دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوم آفس کو علم ہی نہیں کہ ان کے نظام میں کہاں کہاں خامیاں ہیں، اور کس طرح ان کا غلط فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
برطانوی اخبار کے مطابق اس کنسلٹنسی کے سی ای او ایک ویڈیو میں وہ طالب علموں کو مشورہ دیتے ہیں کہ IELTS کے بغیر نرسنگ یا مڈوائفری میں ڈپلومہ کر کے یو کے اسٹوڈنٹ ویزا حاصل کریں، پھر اسے ورک پرمٹ میں بدل لیں۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستانی شہری مخصوص ویزا کنسلٹنٹس کو پچاس ہزار پاؤنڈ تک ادا کر کے جعلی سی وی، بینک اسٹیٹمنٹس اور ریفرنس لیٹرز حاصل کرتے ہیں جن میں املا اور گرائمر کی متعدد غلطیاں بھی ہوتی ہیں، لیکن پھر بھی یہ ویزے منظور ہو رہے ہیں۔
ٹیلیگراف کے ہاتھ لگنے والی ایک درخواست میں ایک فرضی اسپتال کی طرف سے دیا گیا ایسا ریفرنس موجود تھا جس میں نہ صرف گرامر کی واضح غلطیاں تھیں بلکہ اسپتال کا وجود بھی ثابت نہیں تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر کے علاقے میرپور میں قائم ایک ویزا کنسلٹنسی کے سی ای او نہ صرف جعلی دستاویزات تیار کرتے ہیں بلکہ یوٹیوب پر کھلے عام ایسے "شارٹ کٹس” کی تشہیر کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے ذریعے ویزا حاصل کرنے کی کامیابی کی شرح 98 فیصد ہے۔
اس سی ای او کی جانب سے مختلف ممالک بشمول برطانیہ، بلغاریہ، کینیڈا، فرانس، اور یونان کے ویزوں کے لیے الگ الگ پیکیجز دئیے جاتے ہیں۔ برطانوی ورک ویزا کے لیے فیس 32,700 پاؤنڈز سے شروع ہوتی ہے، جب کہ جعلی بینک اسٹیٹمنٹ تیار کرنے کی الگ فیس 2,615 پاؤنڈز ہے۔
ہرجب بھنگل کا کہنا ہے کہ کئی پاکستانی پہلے قانونی ویزے پر برطانیہ آتے ہیں اور بعد میں پناہ کے لیے اپلائی کرتے ہیں، اکثر یہ درخواست ویزے کی معیاد ختم ہونے سے پہلے دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوم آفس کو علم ہی نہیں کہ ان کے نظام میں کہاں کہاں خامیاں ہیں، اور کس طرح ان کا غلط فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
برطانوی اخبار کے مطابق اس کنسلٹنسی کے سی ای او ایک ویڈیو میں وہ طالب علموں کو مشورہ دیتے ہیں کہ IELTS کے بغیر نرسنگ یا مڈوائفری میں ڈپلومہ کر کے یو کے اسٹوڈنٹ ویزا حاصل کریں، پھر اسے ورک پرمٹ میں بدل لیں۔
اعداد و شمار: پاکستانی پناہ گزین سب سے زیادہ
برطانوی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں پاکستانی شہریوں کی جانب سے 10,542 پناہ کی درخواستیں دی گئیں جو کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھیں، اور پچھلے سال کے مقابلے میں 80 فیصد اضافہ تھا۔




