نیا ریئلٹی شو ’لازوال عشق‘ سوشل میڈیا پر صارفین کے سخت ردعمل کا باعث بن گیا ہے۔ صارفین نے اسے پاکستانی ثقافت اور اسلامی اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے یوٹیوب پر رپورٹ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
یہ شو تب سے تنقید کی زد میں ہے جب اس کا پہلا ٹیزر منظر عام پر آیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مغربی ڈیٹنگ شوز کی طرح ہے اور پاکستان میں غیر مناسب مواد پیش کرتا ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر کئی ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو پابندی کے لیے درخواستیں موصول ہوئی ہیں، تاہم پیمرا نے وضاحت کی ہے کہ چونکہ یہ شو ٹی وی چینل پر نشر نہیں ہو رہا بلکہ یوٹیوب پر دستیاب ہے، اس لیے پابندی لگانا ممکن نہیں۔
اداکارہ مشی خان نے بھی شو کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ’لازوال عشق‘ ترکی کے ریئلٹی شو ’عشق آداسی‘ کی نقل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے شوز پاکستان میں فحاشی پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
یوٹیوب پر پہلی قسط میں شرکا کو مغربی طرز کے لباس میں دکھایا گیا جبکہ میزبان عائشہ عمر نے کھل کر مختلف موضوعات پر بات کی۔ اس قسط کو اب تک 3 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔
سوشل میڈیا پر خاص طور پر خواتین کے لباس اور شو کے مواد پر اعتراضات سامنے آئے ہیں، تاہم عائشہ عمر نے ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ کو شو بہت پسند آیا اور ان کی رائے ان کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔
اس کے باوجود صارفین پابندی کے مطالبات پر قائم ہیں اور یوٹیوب پر رپورٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔




