نئی دہلی : بھارتی فوج نے آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد اپنی جنگی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی کرتے ہوئے بٹالین سطح پر ڈرونز کو مستقل ہتھیار کے طور پر اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام سے جنوبی ایشیا کے امن کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
بھارتی اخبار "انڈین ایکسپریس” کے مطابق، بھارتی فوج نے انفنٹری، توپ خانے اور بکتر بند یونٹس میں ڈرون آپریشن کے لیے خصوصی ٹیمیں قائم کر دی ہیں۔ ڈرونز کے ذریعے ہدف کی نشاندہی اور حملے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ انجینئر رجمنٹس کو بارودی سرنگوں کی تلاش کے لیے بھی ڈرونز فراہم کیے جا رہے ہیں۔
بھارتی فوج نے اپنی ایوی ایشن کو وسعت دی ہے تاکہ ہیلی کاپٹروں پر انحصار کم کیا جا سکے اور ساتھ ہی اینٹی ڈرون دفاعی صلاحیتوں کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔ یہ تمام اقدامات بھارتی فوج کی جنگی حکمت عملی میں بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی اسلحہ کی دوڑ اور جارحانہ حکمت عملی سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا اور امن کو خطرات لاحق ہوں گے۔




