ناگالینڈ میں آزادی کی تحریک نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے، جس میں مقامی عوام اور فوج کے درمیان ہم آہنگی اور عزم کی شدت نظر آ رہی ہے۔ ترجمان ناگالینڈ فوج نے بھارتی حکومت کے خلاف متحد رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ بھارت کی مودی سرکار اپنے اقدامات میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور حق خودارادیت کی آواز کو دبانے میں ناکام رہی ہے۔
"ہمارا حق ہے کہ ہم اپنی سرزمین پر زندہ رہیں۔ اگر ہمارا وجود قائم ہے، تو اس کے لیے ایک خطہ بھی موجود ہے۔” ترجمان نے مزید کہا: "جلد ہی ہم اپنی سرزمین، تاریخ اور مستقبل میں ایک ساتھ ہوں گے۔ ہمیں اپنے آزاد وطن کے لیے متحد رہنا ہوگا، کیونکہ ہماری زمین، ہماری سیکیورٹی اور ہمارا مستقبل خطرے میں ہے۔”
"جب ہمارا گھر جل رہا ہو، تو ہمیں خود کو تقسیم نہیں کرنا چاہیے۔ تمام لوگوں کو اپنے آزاد اور خودمختار وطن کے لیے آگے آنا چاہیے اور اپنی سرزمین کی حفاظت، اپنے مستقبل اور آزادی کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔”
ترجمان نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ آزادی کی تحریک میں عوامی قیادت بھی سامنے آئی ہے، جس سے تحریک کو نئی توانائی ملی ہے۔ اب بھارت سے آزادی کی تحریک ناگالینڈ کے عوام کی تحریک بن چکی ہے۔
ناگالینڈ کے عوام نے عالمی سطح پر اپنے مستقبل کے فیصلے اور ریفرنڈم کے لیے آواز اٹھانے کی اپیل کی ہے تاکہ ان کے حق میں عالمی حمایت حاصل ہو سکے۔
ترجمان ناگالینڈ فوج نے واضح کیا کہ ناگالینڈ کے عوام قابض بھارت کے تسلط سے آزادی کے قریب پہنچ چکے ہیں، اور یہ کہ بھارت مقبوضہ کشمیر، جونا گڑھ اور ناگالینڈ جیسے علاقوں پر غیر قانونی طور پر قابض ہے۔
"وہ وقت دور نہیں جب کشمیر کے بہن بھائی قابض بھارت سے آزادی حاصل کر کے آزاد فضاؤں میں سانس لیں گے۔”




