بین الاقوامی

مودی سرکار کے متنازعہ ترمیمی بل پر اپوزیشن کا لوک سبھا میں شدید احتجاج

نئی دہلی: مودی سرکار نے لوک سبھا میں تین بڑے آئینی و قانونی بل پیش کیے ہیں، جن پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج اور مخالفت کی جارہی ہے۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، ان بلوں کا مقصد سنگین فوجداری مقدمات میں زیرِ حراست اعلیٰ عہدیداروں کو نااہل قرار دینا ہے، جسے اپوزیشن نے سیاسی انتقام کا ایک واضح حربہ قرار دیا ہے۔

ان ترمیمی بلوں کے تحت آئین کے آرٹیکل 75، 164 اور 239AA میں تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے، جس کے ذریعے وزیراعظم، وفاقی وزرا، وزرائے اعلیٰ اور دہلی حکومت کے وزرا کو ہٹانے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔ بل کے مطابق اگر کوئی رہنما 30 دن مسلسل یا پانچ سال یا اس سے زائد سزا کے مقدمے میں گرفتار رہے تو اسے نااہل قرار دے کر وزارت سے برطرف کیا جا سکتا ہے، البتہ رہائی کے بعد دوبارہ تقرری کا امکان موجود ہوگا۔

جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل کے تحت بھی یہی نااہلی کے اصول وفاقی اور یونین ٹیریٹری کی سطح پر وزرا پر لاگو ہوں گے۔ اپوزیشن جماعتیں، بشمول کانگریس، اے آئی ایم آئی ایم اور ٹی ایم سی، نے ان بلوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں بھارتی جمہوریت اور وفاقی نظام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے کہا کہ یہ بل انتظامی اداروں کو "جج اور جلاد” بننے کا موقع دے گا، جبکہ ٹی ایم سی کی مہوا موئترہ نے اسے "بھارتی جمہوریت کا سب سے سیاہ دن” قرار دیا اور کہا کہ یہ بل عدلیہ اور وفاقی ڈھانچے کو بائی پاس کرتا ہے۔

کانگریس کے ابھیشیک سنگھوی نے لکھا کہ یہ بل "انتخابات میں شکست نہ دے سکنے پر اپوزیشن کو ہٹانے کا آسان طریقہ” ہے، جس میں جانبدار ادارے گرفتاریاں کر کے مخالف آوازوں کو دبائیں گے۔

اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ یہ بل ایف آئی آر اور چارج شیٹ کے مرحلے پر سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیے جائیں گے اور ملک میں جمہوری اقدار کو نقصان پہنچائیں گے۔

مودی حکومت کی اس نئی قانون سازی کو ایک ایسا ہتھیار سمجھا جا رہا ہے جس کے ذریعے مخالفین کو خاموش کرایا جائے گا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بی جے پی حکومت میں نہیں ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button