نئی دہلی : بھارت ایک جانب دنیا کو اپنے خلائی عزائم اور ’آتمانربھر بھارت‘ (خود انحصار بھارت) کے خواب دکھا رہا ہے، تو دوسری جانب اس کے خلائی مشنز کی ناکامیاں، تاخیر، اور تکنیکی کمزوریاں سنگین سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔ بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارہ ISRO پر عوامی ٹیکس کے اربوں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، مگر کئی منصوبے مکمل یا جزوی طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔
2019 میں بھارت نے اعلان کیا کہ وہ چاند پر سافٹ لینڈنگ کرے گا، مگر چندریان-2 مشن کا وکرم لینڈر چاند کی سطح سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔ ISRO نے اس ناکامی کو کامیابی کا رنگ دینے کی کوشش کی، مگر حقیقت یہی ہے کہ لینڈر مشن ناکام رہا۔ البتہ آربیٹر تاحال کام کر رہا ہے، جسے جزوی کامیابی تصور کیا جا سکتا ہے۔
2023 میں چندریان-3 کا لینڈر کامیابی سے اترا، اور بھارت چاند کے جنوبی قطب پر پہنچنے والا پہلا ملک بن گیا۔ تاہم، مشن کا روور صرف 14 دن ہی چل پایا۔ یہ محدود مدت اس لیے تھی کہ وہ صرف سورج کی روشنی میں کام کر سکتا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، جب کہ حقیقت میں یہ محض علامتی پیش رفت تھی۔
اس کے بعد بھارت نے 2014 میں منگلیان (Mars Orbiter Mission) کو "سستا کمال” قرار دیا۔ یہ مریخ تک پہنچنے والا پہلا ایشیائی مشن تھا، مگر سائنسی آلات کی کمی کے باعث یہ تحقیقاتی لحاظ سے محدود رہا۔ مشن 8 سال بعد خاموشی سے ختم ہو گیا، بغیر کسی نمایاں سائنسی دریافت کے۔
2022 میں ISRO کے چھوٹے سیٹلائٹ لانچ وہیکل (SSLV) کی پہلی پرواز ناکام ہوئی، اور تمام سیٹلائٹس ضائع ہو گئے۔ بھارت کو کرائیوجینک ٹیکنالوجی کے لیے اب بھی روس جیسے ممالک پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جو اس کے "خود انحصاری” کے دعووں پر سوال اٹھاتا ہے۔بھارت کا پہلا انسانی خلا مشن "گگنیان” 2022 میں بھیجا جانا تھا، مگر کئی تکنیکی تاخیر اور کووڈ-19 کے باعث اسے اب 2026 یا اس سے بھی آگے تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود کوئی خلا باز تاحال خلا میں نہیں بھیجا جا سکا۔
’ناوک‘، بھارت کا اپنا نیویگیشن سسٹم، جسے ملکی GPS کہا جاتا ہے، اب تک پوری طرح فعال نہیں ہو سکا۔ موجودہ نو سیٹلائٹس میں سے صرف دو کام کر رہے ہیں، جب کہ دیگر کے ایٹامک کلاک فیل ہو چکے ہیں۔ حالیہ سیٹلائٹ NVS-02 بھی مدار تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکا۔ چونکہ بھارت ابھی تک اپنی ایٹامک گھڑیاں نہیں بنا پایا، نظام پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ISRO کا بجٹ اگرچہ NASA جیسے اداروں سے بہت کم ہے، مگر بھارت جیسے ترقی پذیر ملک میں جب لاکھوں لوگ صحت، تعلیم اور روزگار سے محروم ہیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ خلائی پروگرام کی یہ سرمایہ کاری واقعی فائدہ مند ہے یا صرف عالمی ساکھ بنانے کی ایک مشق؟




