پاکستان

جنوبی پنجاب میں سیلاب کی شدت میں اضافہ، ہزاروں دیہات زیرِ آب، فصلیں تباہ

لاہور:پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح تو کم ہو رہی ہے مگر جنوبی پنجاب کے کئی علاقوں میں سیلاب کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ستلج دریا کا سیلابی پانی اب سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں کچے کے سیکڑوں دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں۔

شجاع آباد کے جلالپور کھاکھی میں ایک 45 سالہ شخص سیلابی پانی میں اپنے مویشی بچاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔ لاش قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔

چشتیاں میں دریا کے پانی نے 47 موضع جات کو لپیٹ میں لے لیا ہے، جن میں راجو شاہ، بونگہ جھیڈ، مزید شاہ اور بلاول شامل ہیں۔ چاول، گنا، مکئی اور تل کی فصلیں شدید متاثر ہو چکی ہیں اور 48 ہزار ایکڑ سے زائد زرعی رقبہ تباہ ہو چکا ہے۔ چاچڑاں میں درمیانے درجے کے سیلاب نے درجنوں بستیاں اور سینکڑوں ایکڑ کھیت تباہ کر دیے ہیں۔

اوچ شریف میں بھی 25 دیہات مکمل طور پر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے، مکانات گر چکے ہیں اور کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ متاثرین کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے اور پرائیویٹ کشتی مالکان بھاری کرایے وصول کر کے پریشان حال لوگوں کو مشکلات میں مبتلا کر رہے ہیں۔

شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے فوری ریلیف فراہم کریں۔ علی پور کے دیہات گھلواں دوم، چوکی گبول اور کندرالہ سمیت کئی علاقے پانی میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں مکانات، اسکول اور سڑکیں بھی پانی میں ڈوب چکی ہیں۔ ہزاروں ایکڑ کھڑی فصلیں مکمل تباہ ہو چکی ہیں۔

منچن آباد میں ستلج دریا کے سیلاب نے 67 دیہات کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے، جہاں 56 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرین میں بڑی تعداد اب بھی کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، کئی دیہات کا زمینی رابطہ ابھی تک بحال نہیں ہو سکا اور لوگ اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button