نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی حمایت میں ایک اہم قرارداد منظور کر لی ہے، جس میں غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور عبوری حکومت کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ اس قرارداد کے حق میں پاکستان سمیت 13 ممالک نے ووٹ دیا، جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا۔ روس اور چین نے اس ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔
امریکی مندوب نے قرارداد کی منظوری کے بعد پاکستان، مصر، قطر، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور انڈونیشیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی اور تعمیری اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم سب نے اکٹھے ہو کر غزہ کی صورتحال کی سنگینی کا ادراک کیا اور اس کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔” امریکی مندوب کا کہنا ہے کہ غزہ کے استحکام کے لیے یہ قرارداد ایک سنگ میل ثابت ہو گی۔
قرارداد میں غزہ کی معاشی اور سیاسی بحالی کے لیے مزید اقدامات کرنے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم، فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے اس قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلسطینی عوام کے حقوق کو نظرانداز کرتی ہے اور غزہ پر بین الاقوامی سرپرستی مسلط کرنے کی کوشش ہے۔ حماس نے غزہ میں انسانی امداد کے انتظام کو اقوام متحدہ کے زیر نگرانی فلسطینی اداروں کے پاس دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ امداد کا صحیح استعمال ہو سکے۔




