پنجاب حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار 31 سال سے واجب الادا 675 ارب روپے کا مقامی بینکوں کا قرض اتار کر مالی خودمختاری حاصل کر لی۔
سیکریٹری خزانہ پنجاب مجاہد شیر دل نے بتایا کہ یہ رقم بنیادی طور پر گندم خریداری اور سبسڈی اسکیموں پر خرچ ہوئی، اور تین دہائیوں سے صوبے پر قرض کا دباؤ برقرار تھا۔
ان کے مطابق اگر قرض کی بروقت ادائیگی نہ کی جاتی تو حکومت کو ہر روز تقریباً 50 کروڑ روپے سود کی مد میں ادا کرنا پڑتا، جو صوبے کے مالی وسائل پر بھاری دباؤ ڈالنے کے مترادف ہوتا۔
پنجاب حکومت کی جانب سے مقامی بینکوں سے گندم خریداری اور سبسڈی اسکیموں کے لیے قرض لینے کا سلسلہ 1990 کی دہائی میں شروع ہوا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ قرض سود سمیت بڑھ کر سینکڑوں ارب روپے تک پہنچ گیا۔ معاشی ماہرین کے مطابق قرض کی مکمل ادائیگی نہ صرف سود کے بوجھ سے صوبے کو نجات دلائے گی بلکہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاحی اسکیموں کے لیے زیادہ مالی گنجائش پیدا کرے گی۔




