لاہور/ملتان: دریائے ستلج کے شدید زمینی کٹاؤ کے باعث بہاولنگر، پاکپتن اور دیگر قریبی علاقوں میں تباہی کا سلسلہ جاری ہے جہاں سیکڑوں مکانات دریا برد ہو چکے ہیں۔ جلالپور پیر والا میں سیلابی پانی میں ڈوبنے سے 2 خواتین اور ایک نوجوان جاں بحق ہو گئے، جبکہ لیاقت پور میں پانی کا زور کم ہونے کے باوجود متاثرہ علاقوں میں گھر واپس جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
پاکپتن کے گاؤں باقر کے قریب دریا کا رخ بدلنے سے درجنوں گھر پانی میں بہہ گئے ہیں۔ زمینی کٹاؤ کی رفتار میں اضافہ ہونے پر مقامی باشندوں نے اپنے قیمتی سامان نکالنا شروع کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ ہیوی مشینری کی مدد سے بند باندھنے کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ مزید نقصان کو روکا جا سکے۔
بہاولنگر کی بستی جانن والی اور آس پاس کے علاقوں میں دریائی کٹاؤ نے شدید تباہی مچائی ہے جہاں پچاس سے زائد گھر دریا برد ہو چکے ہیں اور پانچ سو سے زائد مکانات شدید خطرے میں ہیں۔ متاثرہ افراد نے حفاظتی اقدامات کے طور پر اپنے مکانات خود گرانے شروع کر دیے ہیں۔
تعلیمی ادارے، مساجد اور مدارس بھی سیلاب کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ بہاول پور کے باقر پور میں سیلاب متاثرین نے انتظامیہ پر ریلیف کیمپ خالی کرانے کا الزام عائد کیا جس پر ڈپٹی کمشنر نے وضاحت کی کہ صورتحال بہتر ہونے پر متاثرین کو واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔
احمد پور شرقیہ، اوچ شریف اور دیگر علاقوں میں بھی مکانات اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ چناب کے مختلف علاقوں میں رابطہ سڑکیں تباہ ہونے سے مواصلات متاثر ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے متاثرین کو گھر واپسی میں دشواری کا سامنا ہے۔
منچن آباد میں بابا فرید پل کے مقام پر سیلابی صورتحال بدستور برقرار ہے جہاں 80 ہزار کیوسک کا ریلا بہہ رہا ہے۔ 15 دیہات میں زمینی راستے سیلابی پانی کی وجہ سے بند ہیں۔
دریائے چناب اور سندھ کے سیلابی ریلے لیاقت پور میں بھی تباہی کا باعث بنے، جہاں متعدد مکانات اور فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ متاثرین کی واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے مگر رابطہ سڑکوں کی خرابیوں کی وجہ سے مشکلات برقرار ہیں۔
دریائے سندھ میں گڈو اور چشمہ بیراج پر پانی کی سطح میں کمی آئی ہے، جس سے سیلاب کی صورتحال نسبتا بہتر ہوئی ہے۔ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 73 ہزار 651 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 44 ہزار 888 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے رابطہ سڑکوں کی فوری مرمت کو اولین ترجیح قرار دیا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں زندگی کی روانی بحال کی جا سکے۔




