اسلام آباد : فاسٹ یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار "2030 کا پاکستان: چیلنج، امکانات اور نئی راہیں” سے خطاب کرتے ہوئے ایپ سپ کے چیئرمین اور معروف ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان نے کہا کہ پاکستان کی ترقی نوجوانوں کے باکردار اور باشعور ہونے سے وابستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی 60 سے 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور جدید مہارتیں ناگزیر ہو چکی ہیں، مگر پائیدار کامیابی کے لیے صرف قابلیت نہیں بلکہ کردار سب سے اہم عنصر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کی جامعات صرف تعلیم نہیں، بلکہ انسان سازی کی ذمہ دار ہیں۔
طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان نے سوال اٹھایا کہ "کیا ہم صرف قابل گریجویٹس پیدا کر رہے ہیں یا اچھے انسان بھی؟” انہوں نے زور دیا کہ ہر نوجوان کو خود احتسابی کرتے ہوئے یہ سوچنا ہوگا کہ وہ اپنے خاندان، معاشرے اور ملک کے لیے کیا کردار ادا کر رہا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ ہم 98 فیصد مسلمان ہونے کے باوجود اسلامی اخلاقی اقدار سے دور ہو چکے ہیں، جو افسوسناک ہے۔ ہمیں نبی کریم ﷺ کا اسوہ اپنانا ہوگا اور ان کی سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کامیابی صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم دیے گئے ٹاسک وقت پر مکمل کریں، ذمہ داری کو سمجھیں، اور اپنے رویے میں دیانت، اخلاص اور وقت کی پابندی کو شامل کریں۔
سیمینار کے اختتام پر انہوں نے ممتاز تعلیمی رہنما میاں عامر محمود اور ڈاکٹر آفتاب کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ میاں عامر محمود نے قوم کو 400 سے زائد کالجز اور تین جامعات کا تحفہ دیا، جو ان کی قومی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ سیمینار میں طلبہ، اساتذہ، اور تعلیمی ماہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمان کے فکر انگیز خیالات کو سراہا۔




