بین الاقوامی
Trending

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک میں تیزی، مودی حکومت پر تنقید بڑھ گئی

نئی دہلی: نریندر مودی کی قیادت میں بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف امتیازی اور جارحانہ اقدامات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہندوتوا نظریے کو سرکاری سرپرستی حاصل ہونے کے باعث مذہبی اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ اتر پردیش سمیت کئی ریاستوں میں حالات مزید کشیدہ ہو چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اتر پردیش میں مسلم گوشت فروشوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جب کہ متعدد مقامات پر قبرستانوں اور مساجد کی توہین کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ مقامی افراد اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ منظم انداز میں ہو رہا ہے، اور حکومتی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت میں مسلمانوں کے لیے روزمرہ کی زندگی بھی مشکل بنا دی گئی ہے — خواہ وہ گوشت خریدنا ہو یا مذہبی رسومات ادا کرنا، ہر عمل شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم بھارتی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button