پاکستان
Trending

بیانیوں کا ٹکراؤ: استعفیٰ کے معاملے نے نئی بحث چھیڑ دی، استعفیٰ دیا گیا یا نہیں؟ تضاد برقرار

 

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے نے صوبائی سیاست کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔ ایک طرف پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اس استعفے کو حتمی اور باقاعدہ قرار دے رہی ہے، تو دوسری طرف گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس کی تردید کرتے ہوئے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اور سیکریٹری اطلاعات وقاص اکرم شیخ کے مطابق، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ گزشتہ شب 10:45 بجے گورنر ہاؤس کے عملے کو موصول ہوا، جس کی تحریری رسید بھی دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ استعفیٰ گورنر کے ملٹری سیکریٹری (ایم ایس) کے ساتھ باقاعدہ کوآرڈی نیشن کے بعد بھجوایا گیا تھا۔

وقاص شیخ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر بیان جاری کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے لاعلمی ظاہر کیے جانے پر حیرت کا اظہار کیا اور اسے "سیاسی تضاد” قرار دیا۔دوسری طرف گورنر فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا "میرے دفتر کو تاحال علی امین گنڈاپور کا کوئی باضابطہ استعفیٰ موصول نہیں ہوا۔ جب بھی دستاویزات رسمی طور پر موصول ہوں گی، تو آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔”
گورنر نے پی ٹی آئی کے مؤقف کو "فیک نیوز” قرار دیتے ہوئے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ عوام کو گمراہ کرنے سے گریز کریں۔
سیاسی بیانیوں کے تصادم کے درمیان، علی امین گنڈاپور نے خود بھی سوشل میڈیا پر تحریری استعفیٰ شیئر کرتے ہوئے وزارتِ اعلیٰ چھوڑنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ ساتھ ہی ایک جذباتی پیغام میں انہوں نے لکھا”میں یہ دعویٰ تو نہیں کرتا کہ ہر محاذ پر کامیاب رہا، مگر اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ہر قدم دیانتداری سے اٹھایا۔”
انہوں نے پارٹی کارکنان، کابینہ، بیوروکریسی اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عمران خان سے وفاداری کا اعادہ کیا اور کہا کہ اب وہ عوام کے درمیان جا کر اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
علی امین گنڈاپور کے اچانک استعفے اور اس کے گرد پیدا ہونے والا تضاد سیاسی حلقوں کو حیران کر رہا ہے۔ بعض تجزیہ کار اسے پارٹی کے اندرونی دباؤ یا تنظیمِ نو کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ مبصرین کے نزدیک یہ اقدام وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی کشیدگی کا مظہر ہے۔آئینی طور پر، وزیراعلیٰ کا استعفیٰ اُس وقت مؤثر ہوتا ہے جب گورنر اس کی تصدیق کر کے باضابطہ طور پر قبول کرے۔ گورنر کی تردید کے باعث اب یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ کیا علی امین گنڈاپور تاحال وزیراعلیٰ کے عہدے پر برقرار ہیں؟ یا نگران حکومت کی راہ ہموار کی جا رہی ہے؟

اس وقت صوبہ خیبرپختونخوا میں سیاسی ابہام کی فضا ہے۔ ایک جانب استعفے کی سوشل میڈیا پر تصدیق اور دوسری طرف گورنر کی سرکاری تردید نے صورتحال کو گھمبیر بنا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ علی امین گنڈاپور واقعی مستعفی ہو چکے ہیں یا یہ محض ایک سیاسی چال تھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button