واشنگٹن/ تہران: دنیا ایک ہولناک عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اب تک کا سخت ترین موقف اپناتے ہوئے 48 گھنٹے کا حتمی الٹی میٹم جاری کر دیا ہے، جس نے ایشیا سے یورپ تک دفاعی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ہنگامی بیان میں صدر ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے عالمی تجارت کی شہ رگ ‘آبنائے ہرمز’ کو فوری طور پر بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے نہ کھولا، تو امریکہ ایران کے تمام پاور پلانٹس کو نشانہ بنا کر انہیں مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بنا دے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں انتہائی سخت اور جارحانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تزویراتی (Strategic) طور پر "امریکہ نے ایران کو نقشے سے مٹا دیا ہے” اور اب تہران کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں بچا۔
اس الٹی میٹم کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔جنوبی اسرائیل کے شہر ‘عراد’ میں ہونے والی حالیہ تباہی، جس میں 9 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوئے، کے بعد اب امریکی بحری بیڑے کو ‘ایکشن’ کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل اس قدر گہرے ہو چکے ہیں کہ کسی بھی وقت ایک بڑی فوجی کارروائی کی توقع کی جا رہی ہے۔




