اسلام آباد : صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت معیشت، توانائی اور علاقائی صورتحال پر ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی فیصلے کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں ملک بھر میں ‘اسمارٹ لاک ڈاؤن’ کی تجویز پر تفصیلی غور کیا گیا، تاہم صوبوں کی جانب سے شدید مخالفت کے بعد حکومت نے لاک ڈاؤن نہ لگانے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ صدر زرداری نے واضح کیا کہ معاشی پہیہ چلتا رہنا چاہیے تاکہ عام آدمی کا روزگار متاثر نہ ہو۔
حکومت نے سرکاری سطح پر اخراجات میں بڑی کمی لانے کے لیے درج ذیل اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ملک بھر میں 60 فیصد سرکاری گاڑیاں فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی کر کے حاصل ہونے والی رقم کو عوامی ریلیف اور مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے مختص کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
توانائی کے بحران کے حوالے سے صدر مملکت نے قوم کو اطمینان دلایا کہ ملک میں ایندھن (پیٹرول و ڈیژل) کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مستقبل کے لیے بھی انتظامات مکمل ہیں۔
صدر نے شہریوں سے درخوست کی ہے کہ وہ قومی مفاد میں ایندھن کی بچت کریں اور زیادہ سے زیادہ پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ دیں۔




